بلال سعید نے مسجد میں گانے کی شوٹنگ کے معاملے پر قوم سے معافی مانگ لی

 گلوکار بلال سعید نے لاہور کی مسجد وزیر خان میں گانے کی ویڈیو شوٹنگ کے معاملے پر معافی مانگتے ہوئے یہ مناظر گانے ” قبول ہے” کی ویڈیو میں شامل نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔


ٹوئٹرپرجاری ویڈیو میں بلال نے وضاحت دی کہ ہم نے مسجد وزیر خان میں صرف نکاح کا شوٹ کیاتھاجس سے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی اور ایساسمجھا گیا کہ ہم نے مسجد کے تقدس کو پامال کیا، لیکن ایسا کرنےکا سوچ بھی نہیں سکتا۔

انہوں نے کہا کہ غلط فہمی کی بنا پر سمجھا گیا کہ ہم نے مسجد میں موسیقی چلائی اور اس پر رقص کرکے اس کے تقدس کو پامال کیا۔ الحمدللہ میں بھی مسلمان ہوں اور میری تربیت ایک مسلمان گھرانے میں ہوئی ہے میں ایسے کام کا سوچ بھی نہیں سکتا۔احساس ہے کہ جو کچھ ہوا ہے اس سے لوگوں کےجذبات کو گہری چوٹ پہنچی لیکن بحیثیت مسلمان ، مہذب انسان اور فنکار کبھی بھی اسلام یا کسی بھی دوسرے مذہب ، نسل ، ذات ، رنگ یا مسلک کی توہین نہیں کرسکتے۔

بلال سعید اللہ کو حاضر ناظرجانتے ہوئے ویڈیو بیان میں مزید کہا کہ مسجد میں میوزک چلایا ، نہ ہی ڈانس کیا۔ وہاں موجود مسجد کی انتظامیہ بھی اس کی گواہ ہے،فوٹو لینے کیلئے ہم نے صرف ایک چھوٹا سا ڈانس موو کیا تھا۔ ایک کلپ کی وجہ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی لیکن میں مانتا ہوں کہ ہم سے غلطی ہوئی۔ میں ، صبا قمر اور ہم سب اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے ہیں کیونکہ قرآن میں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

صبا قمراور بلال سعید کے “قبول ہے” کے پیچھے چھپی وضاحت

گلوکار نےاس معاملے کو درگزر کرنے کی گزارش کرتے ہوئے کہا کہ غلطی کااحساس ہے اس لیے ویڈیو میں سے وہ پورا سین نکال رہا ہوں، آئندہ کبھی ایسی غلطی نہیں دہرائیں گے۔

اس سے قبل صبا قمر نے بھی انسٹا پراس حوالے سے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ گانے کی شُوٹنگ کے دوران مسجد انتظامیہ وہاں موجود تھی اور وہ گواہ ہیں کہ کسی قسم کی کوئی موسیقی نہیں چلائی گئی۔ ویڈیو کے تعارفی حصے کی شوٹ وزیر خان مسجد میں کی تھی جس میں جس میں نکاح کا منظردکھایا گیا ہے۔ اسے نہ تو کسی پلے بیک میوزک کے ساتھ فلمایا گیا، نہ ہی یہ میوزک ٹریک کا حصہ ہے۔

صبا قمرکے مطابق گانے کی ویڈو11 اگست کو ریلیز کی جائے گی۔

بلال سعید نے بھی انسٹا پوسٹ پر اس حوالے سے وضاحت دی تھی۔