India bans 59 applications including tik-tak

     


بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی حکومت کی جانب سے دیئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملکی خود مختاری، سالمیت اور دفاع کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ 130 کروڑ بھارتیوں کے ذاتی نوعیت کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے یہ اقدام کیا گیا ہے۔

بھارتی حکومت نے ان چینی ایپس پر پابندی لگاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقتدار اعلیٰ اور اس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، یہ پابندی ایک ایسے وقت میں لگائی گئی ہے جب انڈیا اور چین کے درمیان لداخ خطے میں رواں ماہ کے وسط میں ایک خونریز جھڑپ میں بیس بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔

بھارت نے جن موبائل ایپس پر پابندی عائد کی ہے ان میں ٹک ٹاک، شیئراٹ، یوسی براوزر، کلیش آف کنگز، بیوٹی پلس، ویگو ویڈو، ڈی یو براوزر، لائکی، وڈ میٹ سمیت دیگر 59 ایپس شامل ہیں۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ چین اور بھارت کے درمیان لداخ میں حالیہ کشیدگی کے بعد کیا گیا اور یہ چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف کیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا اقدام قرار دیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت اور چین کے فوجیوں کے مابین15 جون کو ہونے والے تصادم میں 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے، یہ 45سال کے دوران دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان سب سے خونریز جھڑپ تھی۔

امریکا کی خلائی ٹیکنالوجی کمپنی میکسار ٹیکنالوجیز کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں دکھایا گیا تھا کہ وادی گلوان کے ساتھ چینی تنصیبات نظر آرہی ہیں۔

The bjp government said the move was taken to protect the personal data of 130 crore Indians, he said. The Indian government has banned these Chinese apps, saying that they are a threat to the high command and its security, a ban imposed at a time when 20 Indian soldiers were killed in a bloody clash between India and China in the Region of The Red Akh. Among the mobile apps That India has banned include TalkTalk, Sharet, UC Browser, Clash of Kings, Beauty Plus, Vigo Video, DU Browser, Lyki, Woodmate, among others. The decision comes after recent tensions between China and India and is being considered as the biggest ever action against Chinese technology companies, Indian media reported.It was clear that 20 Indian soldiers were killed in the June 15 clash between Indian and Chinese troops, the bloodiest clash between the two countries' forces in 45 years.

Pictures released by the AMERICAN space technology company, Maxar Technologies, showed Chinese installations along the Gulwan Valley.

According to experts, the chances of direct war between the two countries are very low, but it may take some time to reduce the tensions.

Post a Comment

0 Comments