دکانیں کھلوانے سے متعلق عدالت کے فیصلے پر بلاول بھٹو کا ردعمل
سپریم کورٹ کے دکانیں،مارکیٹس اور شاپنگ مالز کھلوانے کے فیصلے کے بعد ایک طرف تو اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جارہا ہے جبکہ دوسری جانب تشویش کی لہر موجود ہے کہ اس فیصلے سے وبائی صورتحال کس حد تک متاثر ہوگی یا کس طرح سے بازاروں اور دکانوں کیلئے بنائے گئے ایس او پیز پر عمل درآمد ہوگا۔
کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مارکیٹس میں چھوٹے طبقے کا کاروبار ہے اور اگر دکانیں بند کریں گے تو دکاندار تو کورونا کے بجائے بھوک سے مر جائے گا۔ چھوٹے دکانداروں کو کام کرنے سے نہ روکیں اور تمام مالز بھی کھولیں کیونکہ مالز میں ایس او پیز پر زیادہ بہتر عمل ہوسکے گا۔ سپریم کورٹ نے ہفتہ اتوار کو کاروبار بند رکھنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا ہے ۔ جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے متعلقہ حکومتیں ذمہ دار ہوں گی۔
جس پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ امید کرتا ہوں کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ میں سنجیدگی غالب رہے گی۔ میں یہ نہیں مان سکتا کہ ہماری عدلیہ کوئی ایسا فیصلے کرے گی
Hoping sanity prevails in the highest court of our land. I don’t want to believe that the superior judiciary would pass any judgment endangering the health & lives of the people of Pakistan. I’m sure all honorable judges will give judgements based on facts & medical realities. IA
جس سے پاکستان کے عوام کی زندگیاں اور صحت داؤ پر لگ جائیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ تمام معزز جج صاحبان حقائق اور صحت کے حالات کی بنیاد پر فیصلے دیں گے۔
پوچھنا تھا کہ
اگر اسکولوں میں کرونا نہیں آتا تو وہ بھی کھول دیتے ہیں کیونکہ بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہورہی ہے اور تعلیم کم از کم نئے کپڑوں سے زیادہ ضروری ہے۔
جس کے بعد سعید غنی نے بھی ٹویٹ کیا اور لکھا کہ صرف یہ پوچھنا ہے کہ اگر سکولوں میں کورونا نہیں آتا تو کیا ان کو بھی کھول دیا جائے کیونکہ بچوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے اور بچوں کیلئے تعلیم نئے کپڑوں سے زیادہ ضروری ہے۔




0 Comments